کیا آپ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم مولانا برکت اللہ بھوپالی کو جانتے ہیں؟

کیا آپ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم مولانا برکت اللہ بھوپالی کو جانتے ہیں؟


افتخار احمد

آج جنگ آزادی میں مسلمانوں کی شراکت کی دوسری کڑی میں مولانا برکت اللہ بھوپالی کے بارے میں گفتگو کریں گے۔ مولانا برکت اللہ بھوپالی کو ہندوستانی سرکار کے پہلے وزیر اعظم بننے کا شرف حاصل ہے۔
مولانا 7 جولائی 1854 کو بھوپال میں پیدا ہوئے تھے۔ مولانا کا پورا نام عبد الحفیظ محمد برکت اللہ ہے۔ مدرسہ سلیمانیہ سے عربی اور فارسی کی ثانوی اور اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مولانا نے یہیں سے ہائی اسکول تک کی انگریزی تعلیم حاصل کی۔ مولانا کو بچپن سے ہی آزادی کی تڑپ تھی۔
ان دنوں دو طرح کی لڑائیاں برطانوی حکمرانی کے خلاف لڑی جارہی تھیں۔ ایک وہ لوگ تھے جو ہندوستان سے باہر رہتے ہوئے بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کو انگریزوں کے خلاف متحرک کررہے تھے ، دوسری طرف ہندوستان کے اندر بھی فرنگیوں کی زبردست مخالفت ہو رہی تھی۔ بیرون ملک مقیم ہندوستانی انقلابیوں کے سرپرست شیام جی کرشنا ورما کی مدد سے مولانا برکت اللہ بھی انگلینڈ پہنچ گئے۔ شیام جی اور انگلینڈ میں مقیم دیگر انقلابیوں کے ساتھ رابطے میں رہنے سے ان کے خیالات میں حیرت انگیز تبدیلی آئی۔ ان کے دل میں بار بار یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ انگلینڈ جیسا ملک اتنا خوش کیوں ہے اور ہمارا ملک ہندوستان اتنا بڑا ہوتے ہوئے بھی غلام کیوں ہے؟ ہمارے یہاں کیوں اتنی غربت ہے؟ اس پر غور کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ہندوستان پر انگریزوں کا راج ہے ، جو ہندوستان کو جونک کی طرح چوس رہا ہے۔ مولانا نے برطانوی حکمرانی کی لٹیری پالیسیوں کے خلاف بولنا اور لکھنا شروع کیا۔ اسی وجہ سے برطانوی حکومت نے ان پر مختلف پابندیاں عائد کرنا شروع کردیں۔ انگلینڈ میں رہنا اب مولانا کے لئے ممکن نہیں رہ گیا۔ 1899 میں وہ امریکہ پہنچے اور وہاں کے اسکولوں میں عربی کی تعلیم دینا شروع کردی ، لیکن وہ یہاں بھی برطانوی حکمرانی کے خلاف خاموش نہیں بیٹھے۔ یہ ثبوت 21 فروری 1905 میں ان کے ذریعہ حسرت موہانی کو لکھے گئے خط میں پائے جاتے ہیں۔
برکت اللہ نے یہ خط حسرت موہانی کے ذریعہ ہند مسلم اتحاد کی ضرورت پر لکھے کئے کسی اخبار کے اداریے کو پڑھنے کے بعد لکھی تھی۔ ۔ انہوں نے حسرت موہانی کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ، “افسوس کی بات یہ ہے کہ 2 کروڑ ہندوستانی ، ہندو اور مسلمان بھوک سے مر رہے ہیں ، بھوک مری پورے ملک میں پھیل رہی ہے لیکن برطانوی حکومت ہندوستان کو اپنےمالوں۔ سامان کی منڈی بنانے کی پالیسی کو ہی آگے بڑھانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ جس کی وجہ سے ملک کے عوام کا کاروبار ختم ہورہا ہے۔ برطانوی حکومت زراعت کی ترقی کے لئے بھی کوئی کوشش نہیں کررہی ہے ، جبکہ اس کی لوٹ مار بلا روک ٹوک جاری ہے۔ ہندوستانیوں کو اچھے اور اعلی عہدوں سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔ اس طرح سے ہر طرح کا بوجھ برطانوی حکومت کے ذریعہ ہندوستان اور اس کے عوام پر ڈالا جارہا ہے۔ اس کا اپنا ورثہ بھی تباہ ہوچکا ہے۔ بھارت سے کروڑوں روپے کی لوٹ مار تو صرف اس ملک میں لگائے گئے سرمایہ کے سود کی صورت میں کی جاتی ہے اور یہ لوٹ مار مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔ ملک کی اس غلامی اور اس کی گرتی ہوئی حالت کے لئے ضروری ہے کہ ملک کے ہندو اور مسلمان متحد ہو کر کانگریس کے ساتھ کھڑے ہوں اور آزادی کی جدوجہد کو آگے بڑھائیں۔ ‘
13 مارچ 1913 کو غدر پارٹی کو منظم کرنے اور ہدایت دینے کے لئے 120 ہندوستانیوں کی ایک کانفرنس طلب کی گئی۔ سوہن سنگھ ، لال ہردیال اور مولانا جیسے لوگ نمایاں طور پر اس میں شامل ہوئے۔ غدر پارٹی کا بنیادی مقصد مسلح جدوجہد کے ذریعے برطانوی اقتدار کا تختہ پلٹ کر ہندوستان میں جمہوری اور سیکولر جمہوریہ کا قیام تھا۔ غدر پارٹی کے ان مقاصد کو طے کرنے میں مولانا نے اہم کردار ادا کیا۔ گدر پارٹی کے پھیلاؤ سے برطانوی حکومت خوفزدہ ہوگئی۔ اس نے امریکہ پر دباؤ ڈالا۔ آخر کار، مولانا ، ہردیا ل اور دیگر انقلابیوں کو امریکہ چھوڑنا پڑا۔
پھر یہ انقلابی جرمنی پہنچ گئے اور لڑائی شروع کردی۔ برلن میں مولانا نے غدر پارٹی کی کمان سنبھال رہے راجہ مہیندر پرتاپ سنگھ سے ملاقات کی ۔ یہ دونوں تب تک ایک دوسرے کے ساتھ رہے جب تک کہ موت نے مولانا کو اپنی آغوش میں نہیں لے لیا۔ مولانابرکت اللہ اور راجہ مہندر کو برلن غدر پارٹی کے ذریعہ افغانستان کے راستے باغی فوجیوں کو لیکر ہندوستان کی برطانوی حکومت پر حملہ کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔ اسی دوران 1915 میں مولانا برکت اللہ بھوپالی اور مہندر پرتاپ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر افغانستان میں ہندوستان کی عارضی حکومت تشکیل دی۔ اس عارضی حکومت میں راجہ مہندر پرتاپ سنگھ صدر بنے ، مولانا برکت اللہ وزیر اعظم ، مولانا عبید اللہ سندھی وزیر خارجہ بنے۔ اسی دوران 1920 میں راجہ مہندر پرتاپ سنگھ کو افغانستان کے وزیر خارجہ محمود بیگ کا خط موصول ہوا کہ اب افغانستان اور انگلینڈ میں دوستی کا معاہدہ طے پا گیا ہے اور راجہ مہندر پرتاپ سنگھ کو کابل چھوڑنا ہوگا۔ عظیم کمیونسٹ مفکرمانویندر ناتھ رائے نے راجہ مہیندر اور مولانا سے وطن واپس آنے کو کہا ، لیکن مولانا نے اس مشورے کی سختی سے مخالفت کی۔ انہوں نے اپنے بارے میں کہا کہ میں کبھی بھی غلام بھارت میں واپس نہیں جاؤں گا۔ اچھا ہے کہ غلام ملک میں مرنے کے بجائے کسی دوسرے ملک میں مرجاؤں ۔
اپنی زندگی کی مکمل منزل مقصود تک پہنچنے کے بعد مولانا نے اپنے دوستوں سے ملنے اور آئندہ کی حکمت عملی پر گفتگو کرنے امریکہ جانے کا فیصلہ کیا۔ مولانا کی عمر 70 سال سے زیادہ تھی اور انہیں ذیابیطس ہوگیا تھا۔ کیلیفورنیا میں ہندوستانیوں کی ایک بڑی تعداد مولانا کے سننے کے لئے جمع ہوئی۔ وہ بولنے کے لئے کھڑے ہوئے لیکن بیمار مولانا بڑھاپے کی وجہ سے زیادہ دیر تک اپنا کلام نہیں رکھ سکے۔ اس کے بعد مہندر پرتاپ سنگھ نے اجتماع سے خطاب کیا۔
27 ستمبر 1927 کو مولانا نے آخری سانس لی ۔ انھیں امریکہ کے مرواس بلی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ موت سے پہلے مولانا برکت اللہ بھوپالی نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا “میں اپنی ساری زندگی پورے خلوص کے ساتھ مادر وطن کی آزادی کی جنگ لڑتا رہا۔” یہ میری خوش قسمتی تھی کہ میری نااہل زندگی اپنے پیارے ملک کے لئے کام آیا۔ آج اس زندگی سے رخصت ہوتے ہوئے جہاں مجھے دکھ ہے کہ میری زندگی کی کوشش معنی خیز نہیں ہوسکی ، وہیں مجھے اطمینان ہے کہ میرے بعد لاکھوں لوگ میرے ملک کو آزادی دلانے کے لئے آگے آئے ہیں ، جو سچے ہیں ، ویر ہیں اور جان پر کھیلنے والے ہیں۔ اطمینان کے ساتھ میں اپنے پیارے ملک کی تقدیر ان کے حوالے کر کے جا رہا ہوں۔

نوٹ: جلد ہی اس کی اگلی قسط لے کر آپ کے سامنے پیش ہونگے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »