گر آپ صدقہ کرتے ہیں تو اللہ آپ کو ہر بیماری اور برائیوں سے بچائے گا

گر آپ صدقہ کرتے ہیں تو اللہ آپ کو ہر بیماری اور برائیوں سے بچائے گا


رجنی رانا چودھری

اسلامی روایت میں خیرات(دان)  کی دو اقسام پر  چرچہ کیا گیا ہے۔ ایک زکواۃاور دوسرا صدقہ۔ ویسے  اسلام میں فطرہ کی بھی روایت ہے لیکن یہ ایک ادارہ جاتی خیرات(دان)  ہے۔ زکواۃاور صدقہ معاشرتی  خیرات(دان ) کے زمرے میں آتے ہیں۔ موجودہ مہینہ رمضان المبارک کا ہے۔ رمضان المبارک کے مہینے میں ہمارے مسلمان بھائی روزہ رکھتے ہیں اور تزکیہ نفس کے تمام اقدامات کرتے ہیں جس کا تذکرہ قرآن پاک میں ہے۔ ایسی صورتحال میں  صدقہ کی گفتگو اور تشریح بہت اہم ہوجاتی ہے۔ آئیے صدقہ کو جانتے ہیں۔
صدقہ ، یعنی اسلامی قانون کے مطابق  دان۔ اگر آپ کسی بھی شخص ، مخلوق یا یہاں تک کہ درخت کے پودے کو بھی اللہ کے نام پر  کھلاتے ہیںہیں تو وہ  صدقہ کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر آپ کسی کی کسی بھی طرح سے مدد کرتے ہیں تو وہ بھی  صدقہ کے زمرے میں آتا ہے۔ عقیدہ اسلام کے مطابق اللہ نے اسے(صدقہ) کو ہر قسم کی بیماری کا علاج قرار دیا ہے۔ اس کو ثابت کرنے کیلئے میں ذیل میں دو واقعے آپ کے سامنے پیش کر رہی ہوں۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے!ایک مصری تاجر دل کی شدید بیماری میں مبتلا تھا اور اس نے قاہرہ کے ایک اسپتال میں علاج کرا چکا تھا۔ کسی نے اسے مشورہ دیا کہ یہاں اس کا علاج ممکن نہیں ہے۔ وہ لندن جاکر اپنا بائی پاس سرجری کرا لیں۔ اس نے لندن جانے کا منصوبہ بھی بنا لیا۔ اسی دوران وہ گوشت خریدنے کے لئے قصاب کی دکان پر گیا ، جہاں اس نے دیکھا کہ ایک بوڑھی عورت قصاب کے ذریعہ کٹے ہوئے گوشت کے ٹکڑوں کو جمع کرتی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا تو بوڑھی عورت نے بتایا کہ وہ ایک غریب بیوہ ہے۔ اس کی کوئی آمدنی نہیں ہے۔ لہذا وہ اپنے بچوں کی بھوک مٹانے کے قابل نہیں ہے۔ اس کے بچے گوشت کھانا پسند کرتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ پھینک دیا گیا گوشت اکٹھا کررہی ہے ، تاکہ وہ اپنے بچوں کی بھوک مٹا سکے۔ اسے یہ کام مجبوری میں کرنا پڑ رہا ہے۔ بوڑھی بیوہ کی بات سن کر تاجر کے دل میں ترس آیا۔ تاجر نے  قصاب سے بوڑھی بیوہ کو روزانہ گوشت فراہم کرنے کو کہا۔ تاجر نے کہا کہ اس گوشت کی قیمت وہ   خود  ادا کرے گا۔  کچھ وقت کے بعد   تاجر کو احساس ہوا کہ دل کی بیماری کے علامات  جیسے تھکاوٹ کی وجہ سےلمبی لمبی سانس آنا ختم ہوگئی ہے۔ بعد میں تاجر نے اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کیا اور  جانچ کرایا۔ اس کی بیماری ختم ہوچکی تھی۔ اس کے بعد اس نے لندن کے ڈاکٹروں سے بھی مشورہ کیا۔  سچ مچ اس کی بیماری ختم ہوگئی تھی۔ تاجر نے محسوس کیا کہ جب اس نے بوڑھی بیوہ کی مدد کرنا شروع کیا اسی دن سے اس کی بیماری ختم ہونا شروع ہوگئی۔
ایک  دیگر واقعہ  میں  ایک بار ایک شخص کو اللہ نے خواب دکھایا۔  اللہ نے خواب میں اس شخص کو دکھایا کہ فلاح قبر میں دفن  شخص کو بہت  تکلیف دی جارہی ہے۔ صبح اس شخص نے اٹھ کر اس قبر کی تفتیش شروع کی تو معلوم ہوا کہ وہ قبر کسی دھوبی کا ہے۔  وہ شخص کھوجتا ہوا اسکے بیٹے کے پاس پہنچا۔ قبر میں دفن اس  بزرگ کا بیٹا اس وقت ندی کے کنارے کپڑے دھو رہا تھا۔ اس شخص نے اسے بتایا کہ آپ کے والد قبر میں بہت تکلیف میں  ہیں ،  تم اللہ کے نام پر صدقہ کر دو۔ دھوبی کے پاس اس وقت کچھ بھی نہیں تھا۔  لیکن  دھوبی نے ندی کا پانی لیا اور اللہ کے نام پر  صدقہ کر مین پر ڈال دیا۔  اس سے ایک چیونٹی، جو پانی کے بغیر تڑپ رہی تھی ،اسے راحت ملی اور اس نے دعا دی۔  کہا جاتا ہے کہ قبر میں دفن دھوبی کے والد کو اس صدقے کے بدولت قبر میں عذاب کم ہو گئی۔  
ان واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ ‘صدقہ ‘ کرنے  والوں کو ہر طرح کی بیماریوں اور برائیوں سے بچاتا ہے۔ یاد رکھیں صدقہ کا  کوئی مذہبی حدود نہیں ہے۔ کسی مذہبی امتیاز کے بغیر مساکین کی مدد کرنا آسمانی کرم ہے۔ انسانیت ، شفقت اور رحمت کی علامت اسلام کے دوسرے خلیفہ حضرت عمرؒ  نے کہا ہے ، “اگر کوئی کتا بھی بھوک یا پیاس سے دریائے فرات کے کنارے مرتا ہے تواللہ عمر سے سوال پوچھے گا۔
نوٹ: مولوی محمد جہانگیر  کے ذریعہ دی گئی  جانکاری کی بنیاد پر۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »