وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے خلاف 16 نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں ایک بڑے احتجاج کے اعلان نے برادری میں جذبات کو بھڑکا دیا ہے۔ میں اس احساس کو بخوبی سمجھتی ہوں وقف محض زمین یا قانون کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک وراثت، ایمان اور اُن نسلوں کے اعتماد کا مظہر ہے جنہوں نے اپنی جائیدادیں اللہ کی رضا اور خلقِ خدا کی خدمت کے لیے وقف کیں ۔ تاہم، ایک مسلمان خاتون ہونے کے ناطے جو ایمان اور عقل دونوں کی قدر کرتی ہے، میں خود سے یہ سوال کرتی ہوں کہ ایسے احتجاج کا مقصد اور وقت کیا ہے؟ جب یہ قانون پہلے ہی سپریم کورٹ کی عدالتی جانچ کے دائرے میں ہے تو پھر سڑکوں پر نکل کر اس جنگ کو لڑنے کا فائدہ کیا ہے؟
یہ درست ہے کہ وقف ترمیمی ایکٹ نے مسلم برادری کے اندر بحث کو جنم دیا ہے ۔ کچھ لوگ اسے حکومت کی حد سے زیادہ مداخلت سمجھتے ہیں، جب کہ دوسرے اسے احتساب اور شفافیت کے لیے طویل عرصے سے مطلوب اصلاح قرار دیتے ہیں ۔ تاہم، جو بات اکثر شور و غوغا میں گم ہو جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ اصل مسائل مذہبی نہیں بلکہ انتظامی اور حصہ قانونی نوعیت کے ہیں ۔ وہی دفعات جن پر احتجاج کیا جا رہا ہے ۔جیسے وقف املاک کی تصدیق، خواتین اور غیر مسلم اراکین کی شمولیت، لازمی آڈٹ، اور ڈیجیٹل اندراج۔ سب حکمرانی میں اصلاحات کا ہیں، نہ کہ اسلامی اصولوں کو کمزور کرنے کی کوئی کوشش۔ یہ معاملہ اس وقت سپریم کورٹ کے زیرِ غور ہے، جو ان شقوں کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے رہی ہے ۔ جب عدلیہ ، جو ہمارے جمہوری نظام کا سب سے اعلیٰ ستون ہے، خود اس معاملے کی نگرانی کر رہی ہے، تو عوامی احتجاج اس انتظامی بحث کو بلاوجہ تصادم کے تماشے میں بدلنے کا خطرہ پیدا کرتا ہے ۔
ایک تلخ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم اس قانون کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جو اُن ہی اثاثوں کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے جو طویل عرصے سے غفلت اور بدانتظامی کا شکار رہے ہیں۔ تقریباً دو دہائیاں قبل سچر کمیٹی کی رپورٹ نے وقف جائیدادوں کی افسوسناک صورتحال بیان کی تھی کہ کیسے وسیع و عریض زمینیں غیر استعمال شدہ، ناقص انتظام یا قبضے میں تھیں، جبکہ خود برادری ،غربت، تعلیم اور صحت کی سہولتوں سے محرومی کا شکار تھی۔ حالیہ ترامیم کا مقصد اس فرسودہ نظام کو جدید بنانا ہے تاکہ یہ اثاثے بالآخر اپنے اصل مقصد کے لیے استعمال ہوں: غریبوں کی فلاح اور برادری کی ترقی ایک عورت ہونے کے ناطے مجھے یہ بات خاص طور پر حوصلہ افزا لگتی ہے کہ اس قانون کے تحت بر وقف بورڈ اور کونسل میں خواتین کی نمائندگی لازمی قرار دی گئی ہے-ایک اعتراف جو بہت پہلے ہونا چاہیے تھا۔ صدیوں سے خواتین وقف کی معاون اور مستفید دونوں رہی ہیں، اور اب بالآخر انہیں فیصلہ سازی کی میز پر جگہ ملی ہے۔ کیا ہمیں بطور برادری اس شمولیت کی حمایت نہیں کرنی چاہیے بجائے اس کے کہ ہم اسے رد کریں؟
جو لوگ رام لیلا میدان میں بڑے پیمانے پر احتجاج کی کال دے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون اوقاف کے معاملات پر مسلمانوں کے اختیار کو کمزور کرتا ہے ۔ مگر آئیے یاد کریں کہ اسلامی فقہ خود اس بارے میں کیا کہتی ہے ۔ حنفی فقہ کے مطابق متولی جو وقف جائیداد کا نگران ہوتا ہے کوئی مذہبی عہدہ نہیں بلکہ انتظامی ذمہ داری ہے ۔ متولی مسلمان ہو یا غیر مسلم، اس سے فرق نہیں پڑتا، جب تک وہ دیانتدار، قابل اور غیر جانبدار ہو۔ دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ بھی اسی تعبیر کی تائید کرتا ہے ۔ لہٰذا یہ خدشہ کہ بورڈ میں غیر مسلم اراکین کی شمولیت وقف کی تقدس کو مجروح کرے گی، بے بنیاد ہے؛ کیونکہ اچھی حکمرانی مذہبی شناخت سے بالاتر ہوتی ہے ۔ اصل اہمیت ایمان داری اور جواب دہی کی ہے، نہ کہ عقیدے کی۔
مزید یہ کہ ہمیں اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ ایک عدالتی اور انتظامی معاملے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے ۔ سپریم کورٹ پہلے ہی اس معاملے میں مداخلت کر چکی ہے، بعض دفعات پر عمل درآمد روک دیا ہے اور دیگر پر غور کر رہی ہے ۔ ایسے میں سڑکوں پر احتجاج کا راستہ اختیار کرنا غلط تاثر دے سکتا ہے کہ ہم عدالتوں پر اعتماد نہیں کرتے، اور عدالتی عمل کے بجائے احتجاج کو ترجیح دیتے ہیں ۔ یہ رویہ نہ صرف ہمارے اخلاقی مؤقف کو کمزور کرتا ہے بلکہ ایسے منفی بیانیے کو جنم دیتا ہے جو مسلمانوں کو اصلاحات کے ہمیشہ مخالف کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ اس سے ہماری حقیقی تشویشات کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور اُن لوگوں کے ہاتھ مضبوط ہوتے ہیں جو برادری کو ادارہ جاتی عمل سے تعاون نہ کرنے والادکھانا چاہتے ہیں ۔
ہماری برادری نے غلط فہمیوں اور غلط نمائندگیوں کا بوجھ بہت اٹھا لیا ہے۔ آج ہمیں شور نہیں، بلکہ شعور کی ضرورت ہے؛ نعرے نہیں، بلکہ حکمتِ عملی کی پالیسی سازوں، قانونی ماہرین اور اصلاح پسندوں کے ساتھ تعمیری رابطہ ایک دوپہر کے غصے سے کہیں زیادہ بہتر نتائج دے سکتا ہے۔ ہمیں اپنی توانائی اس بات پر مرکوز کرنی چاہیے کہ اس قانون کا نفاذ منصفانہ، شفاف اور اسلامی اصولوں کے مطابق ہو ۔ ہمیں اس بات کے لیے آواز اٹھانی چاہیے کہ برادری کے مفادات کے تحفظ کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات شامل کیے جائیں، نہ کہ پورے قانون کو یکسر مسترد کر دیا جائے۔ آخرکار، وقف کبھی طاقت کی کشمکش کا میدان نہیں تھا یہ تو ہمدردی، تعلیم اور بااختیاری کا سرچشمہ تھا۔
ایک مسلمان خاتون ہونے کے ناطے، میں وقف میں ترمیم کو کسی حملے کے طور پر نہیں بلکہ ایک موقع کے طور پر دیکھتی ہوں ایک ایسا موقع کہ ہم اپنے مقدس امانتوں کے انتظام میں پیشہ ورانہ معیار لا سکیں، خواتین کو قیادت میں جگہ دے سکیں، اور اُس ادارے پر اعتماد بحال کر سکیں جو کبھی عوامی بھلائی کی علامت تھا ۔ ہاں، ہمیں چوکس رہنا چاہیے ۔ ہاں، جواب کا مطالبہ کرنا چاہیے ۔ لیکن یہ سب ہمیں جمہوری اداروں کے دائرے میں رہ کر کرنا چاہیے، نہ کہ ایسے ہنگامہ خیز مظاہروں کے ذریعے جو سرخیوں کے سوا کچھ حاصل نہیں کرتے ۔ جب کوئی معاملہ عدالت کے زیر غور ہو، تو دانائی کا تقاضا صبر ہے، اشتعال نہیں۔ پہلے عدالت کو بولنے دیں ۔ اس وقت تک، اصلاح کی آواز کو احتجاج کے شور میں دبنے نہ دیں ۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ ثابت کریں کہ ہم وہ قوم نہیں جو صرف ردِ عمل ظاہر کرے، بلکہ وہ قوم ہیں جو غور و فکر کرتی ہے ۔ وقف کی روح خدمت میں ہے، تصادم میں نہیں۔
