گوتم چودھری
اتر پردیش میں مدرسہ تعلیم سے متعلق حالیہ پیش رفت ہندوستانی مسلم کمیونٹی کی تعلیمی اور سماجی سمت میں ایک اہم تبدیلی کا اشارہ ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے اتر پردیش مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کو کامل اور فاضل جیسی اعلیٰ ڈگریاں تفویض کرنے کے حق کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد فطری طور پر طلباء اور اساتذہ کے درمیان غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی۔ اس کے جواب میں ریاستی حکومت کی طرف سے ریاستی یونیورسٹی ایکٹ 1973 میں ترمیم کر کے مدرسوں کو ریاستی یونیورسٹیوں سے جوڑنے کی تجویز، ایک نئی سمت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ آنے والے وقت کے لیے ایک بہتر متبادل بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ پہل صرف انتظامی تبدیلی نہیں ہے، بلکہ ایک وسیع تر تعلیمی ازسرنو توازن کی کوشش ہے، جہاں روایتی اسلامی تعلیم اور جدید اعلیٰ تعلیمی نظام کے درمیان ایک بامعنی پل قائم کیا جا سکتا ہے۔
مدرسوں نے تاریخی طور پر مسلم معاشرے بالخصوص سماجی طور پر پسماندہ طبقات کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس ادارے نے مذہبی علوم، اسلامی فقہ اور کلاسیکی زبانوں کی شاندار روایت کو محفوظ رکھا ہے۔ لیکن بدلتی ہوئی معاشی اور پیشہ ورانہ ضروریات کے تناظر میں یہ بھی واضح ہوا ہے کہ مدرسہ تعلیم کا روایتی ڈھانچہ، طلباء کو وسیع تر روزگار اور اعلیٰ تعلیم کے مواقع سے پوری طرح نہیں جوڑ پاتا ہے۔
خاص طور پر کامل اور فاضل جیسی ڈگریاں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے ڈھانچے میں باضابطہ منظوری نہ ہونے کی وجہ سے طلباء کے لیے اعلیٰ تعلیم، مسابقتی امتحانات اور مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں داخلے کو محدود کرتی رہی ہیں۔ جس کے نتیجے میں کئی ہونہار طلباء اپنے متبادل کو محدود دائرے میں پاتے ہیں۔
ایسے میں مدرسوں کو یونیورسٹیوں سے منسلک کرنے کی تجویز امکانات کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔ اگر ان ڈگریوں کو مناسب “برج کورس” اور نصابی اصلاحات کے ذریعے یونیورسٹی کے ڈھانچے میں شامل کیا جاتا ہے تو طلباء نہ صرف جدید مضامین اور تدریسی طریقوں سے واقف ہوں گے، بلکہ وسیع تر تعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع تک بھی ان کی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ اس سے وہ اعلیٰ تعلیم، تحقیق، انتظامی خدمات اور کارپوریٹ سیکٹر میں بھی مقابلہ کرنے کے اہل بن سکتے ہیں، یہاں تک کہ یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) جیسے امتحانات میں بھی ان کی شرکت ممکن ہو سکے گی۔
اس عمل میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اسے “شناخت کے انضمام” کے طور پر نہیں، بلکہ “مواقع کی توسیع” کے طور پر دیکھا جائے۔ مدرسوں کے بنیادی مذہبی اور ثقافتی ڈھانچے کو محفوظ رکھتے ہوئے، نصاب، طریقہ تدریس اور انتظامی ڈھانچے کو جدید تقاضوں کے مطابق فروغ دینا ہی اس پہل کی کامیابی کی کلید ہوگی۔
اس کے لیے حکومت ماہرین تعلیم اور کمیونٹی کی قیادت کے درمیان مسلسل بات چیت ضروری ہے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ تبدیلی حساس، جامع اور عملی ہو۔ اس کے ساتھ ہی اساتذہ کی تربیت، طلباء کے لیے رہنمائی اور نصاب کی متوازن تنظیم نو جیسے اقدامات اس تبدیلی کے عمل کو آسان بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
موافقت، ساختی تبدیلی اور ذہنی قبولیت کے نقطہ نظر سے بلاشبہ یہ تبدیلی قلیل مدتی چیلنجز لائے گی لیکن اس کے طویل مدتی فوائد کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ یہ پہل اس بنیادی خیال کو تقویت بخشتی ہے کہ مذہبی تعلیم اور جدید کیریئر ایک دوسرے کے متضاد نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے لیے معاون ہیں۔
لہٰذا مدرسوں اور یونیورسٹیوں کا یہ ممکنہ انضمام صرف نظام تعلیم کو بہتر بنانے کی کوشش نہیں ہے، بلکہ سماجی بااختیاریت کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ جب مدرسے کے طلباء اپنی مذہبی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے جدید علم اور ہنر سے لیس ہوکر معاشرے میں قدم رکھیں گے، تبھی ایک جامع اور متوازن ترقی کی حقیقی بنیاد رکھی جاسکے گی۔
