مولانا ارشد مدنی کے بیان کو وطن پرست اقدار کے ساتھ جوڑ کر ددیکھنے کی ضرورت ہے

مولانا ارشد مدنی کے بیان کو وطن پرست اقدار کے ساتھ جوڑ کر ددیکھنے کی ضرورت ہے

 گوتم چودھری

امیریکی رہنمائی والے متحد فوج کے خلااف بیس سال کی لڑائی کے بعد طالبان کے ذریعہ حکومت پر قبضہ کرنا عام نظریہ سے بالکل الگ ہے۔ تقویم اتنا ڈرامائی تھا کہ ہر کوئی حیران رہ گیا ۔ حالانکہ اسمیں  حیرانی کی کوئی بات نہیں تھی ۔  افغانستان کی ہم عصر واقعات اور دوست ملکوںکی حکمت (چال)یہ بتا رہی تھی کہ آج نہیںتو کل طالبان کا افغانستان پر قبضہ لازم ہے ۔ کئی تجزیہ کار نے نئے طالبان کو ایک جدید ملاوٹ سے پاک نثریات کے طورپر پیش کیا ہے، جسکا پرانے طالبان سے بہت کم رشتہ ہے۔ حلانکہ نظریاتی وعدوں اور سیاسی ڈھانچے اچھی طرح منظم کرنے میں اندازہ سے کہیں  زیادہ  وقت لگے گا۔ کیوں کہ طالبان نے ماضی میں جو سختی کی تھی، اس سے یہ یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہےکہ وہ پچھلے بیس سالوں میں بدل گئے ہیں۔ اس کے مثال بھی دکھائی دینے لگے ہیں۔ لوگ وطن چھوڑنے کے لئے بیتاب ہیں ، کچھ لوگ قومی جھنڈا کے لئے لڑنے کے لئےسڑکوں پر اتر رہے ہیں ۔ خواتین اپنے مستقبل کو لے کرفکرمند اوبری طرح ڈری ہوئی ہیں۔ غیر ملکی حکمران،اپنے سفارتکار اورسفارتخانہ کے  عملوں کوباہر نکالنے کی جدوجہد میں لگے ہیں۔

چونکہ افغانستان بھارت کے پڑوس میں بسنے والاملک ہے ۔ یہی نہیں لمبے وقت سے افغانستان کا بھارت کے ساتھ سیاسی ،ثقافتی اور اقتصادی رشتہ رہا ہے۔ افغانستان میں ہو رہے سیاسی اور ثقافتی تبدیلی سے بھارت اچھوتا نہیں رہ سکتا ہے۔ حالیہ تبدیلی کی تپش بھارت میںبھی محسوس کیا جا رہا ہے۔ کئی مشہورو معتروف لوگوں کے بیانون کی وجہ سےسرخیوںمیں ہے۔ کئی لوگوںنےتو بیحد خطرناک بیان دیے ہیںلیکن کئی لوگوں کےبیان ہندوستانی وطن پرستی کومضبوط کرنے والا ثابت ہو رہا ہے۔ اسی میں سےایک ہیںمولانا ارشد مدنی صاحب۔ مدنی صاحب جمیعتہ العلماء ہند کے صدر اور دارلعلوم دیوبند کے طلباکے لیے والد کےبرابر ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں کہا ہےکہ طالبان کو دیوبندکی حمایت تبھی ملے گی  جب وہ افغانستان میںپر امن ،عدل اورانصاف کے ماحول کوآشکار کرنےکے لیےاپنی عذم کا یقین دہانی کرائے گا۔اپنے بیان میںانہوںنے یہ بھی کہا کہ طالبانی حکمرانوں کو سبھی افغانستان کےلوگوں کو تحفظ فراہم کرانا ہوگا۔کئی مطالعوں اور رپوٹوں نے پچھلے عرشوں کے دوران بھارت کے دارلعلوم دیوبند اور طالبان کے بیچ رشتوں کا تجزیہ کیاہے،جس کے تحت دیوبندی مدرسوںپر شدت پسندی پھیلانے کا الزام لگتا رہا ہے۔ حالانکہ دارلعلوم دیوبند نے ہمیشہ اس نظریہ کی مخالفت کی ہے ۔ وہ برابر سے کہتے رہے ہیںکہ ہم ہندوستانی  آئینی حدود کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے ہیں۔ہندوستان کی سکولریزم اورعصری ثقافت کے لیے انکا احترام غیر متزلزل ہے۔ دارلعلوم نے ہمیشہ دہشتگردی کی مذمت کی ہےاور دعویٰ کیا ہے کہ یہ اسلام کے خلاف ہے  ۔ دہشت گردمعصوم لوگوںکا قتل کرتا ہے،اس لئے دہشت گرد ی کو اسلامی نہیں کہا جا سکتا ہے، دیوبند کے سرپرستوں کا یہی کہنا ہے کہ اسلام محبت اور امن کی بنیاد پر مبنی ایک عالمی مذہب ہے، جو انسانیت کے لئے ہے۔ 

آنے والے وقت میں جانکاروں کے لئے یہ بیحد اہم ہوگا کہ آخر طالبان کا رخ کیا ہوتا ہے۔ طالبانی مفکر جو اب ایک مادیاتی ملک کے حکمراں بن گئے ہیںانکا ، اسلام ،خارجہ پالیسی ، اقتصادی پالیسی ،پڑوسیوں کے ساتھ رشتہ ، مذہبی اقلیتوں کے ساتھ رویہ ، خواتین کے ساتھ سلوک اور دہشتگردی پر کیانظریہ رہتا ہے ، یہ بھی دیکھنا ہوگا۔ موجودہ طالبان اپنے کاموںمیںزیادہ پختہ اور کمر  بستہ لگ رہے ہیں۔انہوں نے بین الاقوامی معیار کے ساتھ کام کرنے  کا اشارہ کیا ہے ۔ حالانکہ ، اس بار بھی ان کا اہم ایجنڈا سلام اور شریعت قانون ہی ہے، لیکن وہ اسے بیحد چوکسی کے ساتھ عمل کرنے کی راہ میں پہل کر رہے ہیں ۔دیوبند نظریہ کے ساتھ طالبان کےتعلقات کا مستقبل کے واقعات پر اثر کو دیکھنا اور جانچنا بھارت کے لئے بہت اہم ہے ۔یہاں یہ بات بتادینا ضروری ہے کہ طالبان نے اپنی مذہبی آزادیٔ اظہار، زبان اور واقفیت برٹش بھارت   1866میں قائم دیوبند مدرسے سے حاصل کیا ہے ، جو اسلام کا تجدید کار تحریک کے طور پر ایک منظم اور متاثرکن کے طور پر دیکھا جا سکتا ہےکم و بیش  دیوبند مدرسے کے ذریعہ اسلام کی وضاحت ہی طالبان کا توسیع ہے۔دیوبند مدرسےکے ذریعہ اسلام کی وضاحت صرف طالبان  ہی نہیں مانتا ہے بلکہ دنیا کے کئی ملکوں میں مشہور ہے۔اس لئے طالبان کے وجود میںآنے پر ان مذہبی مدرسوں کی حالت کے بارے میںایک بحث چھڑ گئی ہے۔ کچھ جان کاروں کا ماننا ہےکہ یہ مدرسے طالبان کی مضبوطی کے لئے مددگار ثابت ہونگے، لیکن دیوبند کے سرپرست مولانا مدنی صاحب نے اس خدشہ کو خارج کر دیاہے۔

طالبان کا سوال بخوبی طور پر دارلعلوم دیوبند کے دائرے سے باہر ہے، جس نے ہمیشہ انتہاپسندتنظیموں سے دوری بنانے کی کوشش کی ہے۔ظاہر ہے کہ کچھ نگراں(آبزرور) دیکھ رہے ہونگے کہ طالبان کے وجودپر دیوبند کے علماء کیسے ردّعمل کا اظہار کریں گے۔ دارلعلوم ظاہراًسمجھتے ہیںکہ طالبان کے وجودمیں  آنے سے ان پر اثر پڑتا ہےاور اس پر کوئی بھی بیان دینے کا مطلب تنازعات میں پڑنا ہوگا۔ یہ ظاہر ہے کہ طالبان کا عروض بین الاقوامی  برادری اور علاقائی پڑوسیوں کے لئے ایک تشویش کا معاملہ ہے۔ ادھر دیوبند جیسے مذہبی مدرسوں کو تعلیم دینے پر توجہ دینا چاہیےاور تنازعہ میں پڑنے سے بچنا چاہیے ۔ علماءہند مولانا مدنی صاحب نےمثبت بیان جاری کر ہندوستان کے مسلمانوں کی ذہنی حالت کوواضح  کر دیاہے۔ اس میںکہیں کوئی شک نہیں ہے کہ بھارت کا مسلمان کسی قیمت پر اس نظریہ  کی حمایت نہیں کر سکتا،جس نظریہ کی وجہ سے انسانیت شرم شار ہو رہی ہے۔ یاد رہے ہندوستانی مسلمانوںنے ابراہیم لودی کی حمایت کی، رضیہ سلطانہ کی حمایت کی ۔ فرنگیوںکے خلاف بہادر شاہ ظفر کی تائید کی  ۔ ہندوستانی مسلمانوںنے کبھی عالمی اسلامک دہشت گردی کی حمایت کبھی نہیںکی۔ دارالعلوم دیوبند مدرسہ کی بنیاد تحریک آزادی کو پروان چڑھانےکے لئے ہوئی تھی ۔ دیوبندی علماء نےبھارت کے بنٹوارے کی پر زور مخالفت کی تھی  ۔ اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئےمدنی صاحب نے طالبان کو ہدایت دی ہے۔مولانا ارشدمدنی کا بیان بھارت کی جامع ثقافتی روایت کو مضبوط کرنے والا ثابت ہوگا۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »