گوتم چودھری
عصری دنیا میں جب بھی خواتین کے حقوق، تعلیم یا سیاسی شراکت داری پر بحث ہوتی ہے، تو اکثر یہ تصور سامنے آتا ہے کہ یہ نظریات جدید مغربی جمہوریتوں کی دین ہیں اور روایتی مذہبی معاشرے، بالخصوص اسلامی معاشرے، ان کے تئیں فطری طور پر مزاحم رہے ہیں۔ لیکن اسلامی تاریخ، قرآن اور سنت کا سنجیدہ مطالعہ اس مقبولِ عام تصور کو چیلنج کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے خواتین کو سماجی، معاشی اور سیاسی حقوق اس دور میں فراہم کیے تھے، جب دنیا کی بیشتر تہذیبوں میں خواتین کا عوامی کردار انتہائی محدود تھا۔
مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اسلام نے خواتین کو حقوق نہیں دیے، مسئلہ یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیمات پر ثقافتی روایات، پدرانہ تشریحات اور سماجی تنگ نظری کی تہیں چڑھتی چلی گئیں۔ جس کے نتیجے میں اسلام کا بنیادی منصفانہ اور شراکتی نقطہ نظر رفتہ رفتہ دھندلاپڑتا گیا۔
قرآن مجید کی سورہ التوبہ کی آیت 71 اسلامی سماجی فلسفے کی بنیادی سمت واضح کرتی ہے: “مومن مرد اور مومن عورتیں، وہ سب آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن پر عنقریب اللہ رحم فرمائے گا۔” یہ محض ایک روحانی بیان نہیں، بلکہ سماجی اور سیاسی شراکت داری کا اعلان ہے۔ اس آیت میں کہیں بھی خواتین کو عوامی زندگی سے الگ رکھنے کا تصور دکھائی نہیں دیتا۔ اس معاملے میں بریلوی مسلک کے مفتی طفیل خان صاحب کہتے ہیں، “قرآن پاک ایک ایسی مذہبی کتاب ہے، جس میں تحریری طور پر خواتین کو برابری کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہی نہیں کئی ایسی احادیث ہیں، جن میں خواتین کے حقوق کی کھل کر وکالت کی گئی ہے۔”
اسی طرح سیاسی شراکت داری کا سوال بھی اسلامی روایت میں نیا نہیں ہے۔ جدید جمہوریت میں جسے “حقِ رائے دہی” کہا جاتا ہے، اس کی ابتدائی شکل اسلامی تاریخ میں “بیعت” کے طور پر موجود تھی۔ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں سے بھی بیعت لیتے تھے۔ یہ صرف مذہبی عقیدت نہیں، بلکہ سماجی اور سیاسی معاہدے کی ایک شکل تھی، جس میں نظامِ حکومت کے تئیں حمایت اور شراکت داری دونوں شامل تھے۔
تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ خلفائے راشدین کے دور میں عوامی فیصلوں میں خواتین کی رائے کو اہمیت دی جاتی تھی۔ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت کا وہ مشہور واقعہ آج بھی اسلامی سیاسی اخلاقیات کی اہم مثال مانا جاتا ہے، جب ایک خاتون نے مہر کی حد مقرر کرنے کے فیصلے پر قرآن کی آیت کی بنیاد پر اعتراض کیا تھا۔ خلیفہ نے نہ صرف اس کی بات تسلیم کی، بلکہ عوامی سطح پر اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔ یہ واقعہ محض ایک تاریخی قصہ نہیں، بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلامی نظام میں خاتون کو اقتدار سے سوال پوچھنے اور عوامی سطح پر اختلافِ رائے کا اظہار کرنے کا حق حاصل تھا۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ جدید مسلم معاشرے کے بعض حصوں میں خواتین کی تعلیم، روزگار اور عوامی شراکت داری کو اب بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جبکہ اسلام کا بنیادی پیغام اس کے برعکس ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ “علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے” مرد اور عورت دونوں پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔ اس لیے لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھنا محض سماجی ناانصافی نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کی اصل روح کے بھی خلاف ہے۔
اسلامی تاریخ خود اس بات کی گواہ ہے کہ ابتدائی مسلم خواتین محض گھریلو کرداروں تک محدود نہیں تھیں۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ایک کامیاب کاروباری خاتون تھیں، جبکہ حضرت عائشہ بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا اسلامی فقہ اور علمِ حدیث کی ممتاز اسکالرز میں شمار ہوتی ہیں۔ یہ حقائق واضح کرتے ہیں کہ خواتین کا فکری اور عوامی کردار اسلامی اصولوں کے دائرے میں مکمل جواز رکھتا ہے۔
آج ضرورت صرف قانونی اصلاحات کی نہیں، بلکہ ذہنیت کی تعمیرِ نو کی ہے۔ کیونکہ مسئلہ صرف پالیسیوں میں نہیں، بلکہ سماجی رویے میں بھی پنہاں ہے۔ اگر معاشرے کا شعور خواتین کو ثانوی کردار میں دیکھنے کا عادی رہے، تو آئینی حقوق بھی عملی مساوات کو یقینی نہیں بنا سکتے۔ اس لیے مذہبی علماء، تعلیمی اداروں اور سماجی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کے بنیادی منصفانہ جذبے کو دوبارہ اجاگر کریں۔
یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانا محض ایک “خواتین کا مسئلہ” نہیں ہے۔ یہ معاشرے کی اجتماعی ترقی، معاشی استحکام اور اخلاقی صحت سے جڑا سوال ہے۔ جن معاشروں میں خواتین کو تعلیم، روزگار اور عوامی فیصلوں میں شراکت داری ملتی ہے، وہاں صحت، سماجی استحکام اور معاشی ترقی کے اشاریے بہتر پائے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس خواتین کو محدود کرنا پورے معاشرے کے امکانات کو محدود کر دیتا ہے۔
عصری مسلم دنیا کے سامنے اصل چیلنج مغرب اور اسلام کے درمیان انتخاب کا نہیں، بلکہ اسلام کی بنیادی تعلیمات اور بعد کی ثقافتی روایات کے درمیان فرق کو پہچاننے کا ہے۔ جب مذہب کی تشریح اقتدار، روایت اور پدر شاہی کے دباؤ میں ہوتی ہے، تو انصاف کا اصل پیغام کمزور پڑ جاتا ہے۔
اس لیے آج کسی بیرونی نظریاتی کشمکش کی نہیں، بلکہ داخلی فکری دیانتداری کی ضرورت ہے۔ مسلم معاشروں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ خواتین کو تعلیم، احترام اور سیاسی شراکت داری دینا جدیدیت کے دباؤ میں کیا گیا کوئی سمجھوتہ نہیں، بلکہ اسلامی فلسفہِ انصاف کا فطری تقاضا ہے۔
اگر معاشرہ واقعی قرآن اور پیغمبر کی تعلیمات کی طرف لوٹنا چاہتا ہے، تو اسے خواتین کو محدود کرنے والی ذہنیت پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ کیونکہ کسی بھی تہذیب کی اخلاقی بلندی کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ اپنے آدھے معاشرے، یعنی خواتین کو کتنا احترام، مواقع اور اعتماد دیتی ہے۔
